!اے عشق کہیں لے چل


اختر شیرانی کی نظم “اے عشق کہیں لے چل” کا شمار اردو کلاسکس میں ہوتا ہے. یہ نظم معنوی خوبیوں سے تو مالا مال ہے ہی لیکن اس میں نغمگی، بے ساختگی اور روانی بھی دیدنی ہے۔اے عشق کہیں لے چل، اس پاپ کی بستی سے
نفرت گہِ عالم سے، لعنت گہِ ہستی سے
ان نفس پرستوں سے، اِس نفس پرستی سے
دُور اور کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

ہم پریم پُجاری ہیں، تُو پریم کنہیّا ہے
تُو پریم کنہیّا ہے، یہ پریم کی نیّا ہے
یہ پریم کی نیّا ہے، تُو اِس کا کھویّا ہے
کچھ فکر نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

بے رحم زمانے کو، اب چھوڑ رہے ہیں ہم
بے درد عزیزوں سے، منہ موڑ رہے ہیں ہم
جو آس کہ تھی وہ بھی، اب توڑ رہے ہیں ہم
بس تاب نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

یہ جبر کدہ آزاد افکار کا دشمن ہے
ارمانوں کا قاتل ہے، امّیدوں کا رہزن ہے
جذبات کا مقتل ہے، جذبات کا مدفن ہے
چل یاں سے کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

آپس میں چھل اور دھوکے، سنسار کی ریتیں ہیں
اس پاپ کی نگری میں، اجڑی ہوئی پریتیں ہیں
یاں نیائے کی ہاریں ہیں، انیائے کی جیتیں ہیں
سکھ چین نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اک مذبحِ جذبات و افکار ہے یہ دنیا
اک مسکنِ اشرار و آزار ہے یہ دنیا
اک مقتلِ احرار و ابرار ہے یہ دنیا
دور اس سے کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

یہ درد بھری دنیا، بستی ہے گناہوں کی
دل چاک اُمیدوں کی، سفّاک نگاہوں کی
ظلموں کی جفاؤں کی، آہوں کی کراہوں کی
ہیں غم سے حزیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

آنکھوں میں سمائی ہے، اک خواب نما دنیا
تاروں کی طرح روشن، مہتاب نما دنیا
جنّت کی طرح رنگیں، شاداب نما دنیا
للہ وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

وہ تیر ہو ساگر کی، رُت چھائی ہو پھاگن کی
پھولوں سے مہکتی ہوِ پُروائی گھنے بَن کی
یا آٹھ پہر جس میں، جھڑ بدلی ہو ساون کی
جی بس میں نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

قدرت ہو حمایت پر، ہمدرد ہو قسمت بھی
سلمٰی بھی ہو پہلو میں، سلمٰی کی محبّت بھی
ہر شے سے فراغت ہو، اور تیری عنایت بھی
اے طفلِ حسیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اے عشق ہمیں لے چل، اک نور کی وادی میں
اک خواب کی دنیا میں، اک طُور کی وادی میں
حوروں کے خیالاتِ مسرور کی وادی میں
تا خلدِ بریں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

سنسار کے اس پار اک اس طرح کی بستی ہو
جو صدیوں سے انساں کی صورت کو ترستی ہو
اور جس کے نظاروں پر تنہائی برستی ہو
یوں ہو تو وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

مغرب کی ہواؤں سے، آواز سی آتی ہے
اور ہم کو سمندر کے، اُس پار بلاتی ہے
شاید کوئی تنہائی کا دیس بتاتی ہے
چل اس کے قریں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اک ایسی فضا جس تک، غم کی نہ رسائی ہو
دنیا کی ہوا جس میں، صدیوں سے نہ آئی ہو
اے عشق جہاں تُو ہو، اور تیری خدائی ہو
اے عشق وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اک ایسی جگہ جس میں، انسان نہ بستے ہوں
یہ مکر و جفا پیشہ، حیوان نہ بستے ہوں
انساں کی قبا میں یہ شیطان نہ بستے ہوں
تو خوف نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

برسات کی متوالی، گھنگھور گھٹاؤں میں
کہسار کے دامن کی، مستانہ ہواؤں میں
یا چاندنی راتوں کی شفّاف فضاؤں میں
اے زہرہ جبیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

ان چاند ستاروں کے، بکھرے ہوئے شہروں میں
ان نور کی کرنوں کی ٹھہری ہوئی نہروں میں
ٹھہری ہوئی نہروں میں، سوئی ہوئی لہروں میں
اے خضرِ حسیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اک ایسی بہشت آگیں وادی میں پہنچ جائیں
جس میں کبھی دنیا کے، غم دل کو نہ تڑپائیں
اور جس کی بہاروں میں جینے کے مزے آئیں
لے چل تُو وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

کہُوں کِس سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟


( وطن ِ پاک میں رُو پذیر ہونے والے کَھٹناور سانحات ‘ خُونِیں واقعات اور
دِگر گُوں حالات کے تناظُر میں کہی گئ طبع زاد نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پرویز ساحِر)۔۔

کہُوں کِس سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

مِرا ہر شہر کوئ قتل گاہِ دہر بنتا جا رہا ہے۔۔۔۔!
جہاں پر آئے دِن مذہَب ‘ سیاست اُور لسانی تفرقوں کے نام پر
معصُوم اِنسانوں کا قتل ِ عام ہوتا آ رہا ہے۔۔۔۔۔!
کہِیں پر بَم دَھماکوں ‘ گولیوں سے زخم خُوردہ بے گُنہ اِنساں
کہِیں پر بوریوں میں سَر بُریدہ اور لا وارث سے لاشے
کہِیں پر حُکم رانوں اُور سیاست باز اَہلِ شَر کی
مَبنی بَر مفادِ باہَمی اِک مصلحت اندیشی ء بے جا
کہِیں مُلّائیت کا دَخل ِ بے ہَنگم
کہِیں حِزب ِ مخالِف کی ہے شور انگیزی ء بے بے جا
کہِیں پر محکمہ داران و وَردی پوش قاتِل۔۔۔۔۔!
کہِیں پر مِیڈیائ ظُلم و دَہشت خیزی ء بے جا
کہِیں پر بے ضمیری کی صحافت کاری ء بے جا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مُجھے معلُوم ہے یہ ہاتھ کِس کے ہیں
مُجھے معلُوم ہے یہ سب کِدھر سے آتے ہیں ‘ کِس اور جاتے ہیں
مُجھے معلُوم ہے اِن قاتِلوں کے کِتنے چہرے ہیں
مگر پِھر سوچتا ہُوں مَیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہُوں کِس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سبھی نا اَہل اور بے حِس
سبھی اِنسانیت دُشمن’ سبھی غدّار
اَے پیارے وطن ! تُجھ کو
خُدا آباد رکّھے
اُور سدا آزاد رکّھے۔۔۔۔۔!
بَہ جُز حرف ِ دُعا
اب پاس باقی کیا رہا ہے۔۔۔۔۔؟
مِرا ہر شہر کوئ قتل گاہِ دہر بنتا جا رہا ہے۔۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( ایبٹ آباد ‘ پاک ستان )

چلو اُس پار چلتے ہیں


( وطن ِ پاک کے دِگر گُوں حالات ِ پیش آمدہ کے تناظُر میں )

چلو اُس پار چلتے ہیں

جہاں سب ایک دُوجے سے محبّت کرنے والے ہوں
جہاں فَتووں کی دُکّانوں پَہ تالے ہوں
جہاں مُلّائِیّت کا اُور جہالت اُور کسی بھی خوف و دہشت کا
نہ قبضہ ہو
جہاں پر حُکم رانوں ‘ نِیم مُلّاؤں ‘ وڈیروں اُور سیاست باز اہل ِ شر
کوئ بھی نہ ڈیرا ہو
جہاں پر مسجدوں میں ‘ مدرسوں میں ‘ خانقاہوں
اَور چوراہوں میں کوئ بَم نہ پَھٹتا ہو
جہاں حق بات کرنے پر کسی بھی اہل ِ حق کا سَر نہ کٹتا ہو
جہاں مُردوں کی لاشوں کی نہ یُوں تضحِیک ہوتی ہو
جہاں حَسّاس دِل اِنسان کی دُنیا نہ یُوں تاریک ہوتی ہو
جہاں پر پُھول سے معصُوم سب بَچّوں کے ہاتھوں میں قلم ہوں
اُور کتابیں ہوں
جہاں پر کوئ ماں ننگے سَر اَپنی جھولی پھیلائے
نہ یُوں رستے پَہ بیٹھی ہو
جہاں پر کوئ بیٹی بھی فقَط دو وقت کے کھانے کی خاطِر
یُوں سَر ِ بازار کوٹھے پر نہ بِکتی ہو
جہاں پر دو محبّت کرنے والے اہل ِ دِل کی راہ میں
رَسم و قیُود ِ جاہِلانہ کی یہ دیواریں نہ اُٹھتی ہوں
جہاں اَمن و اماں کی اِن سلیٹی فاختاؤں پر
کمانیں اَور بندُوقیں نہ چلتی ہوں
جہاں پر عدل اور اِنصاف ہی کا بول بالا ہو
جہاں پر دانِش و حِکمت کا اُور بَس عِلم و فن کا دَور دَورہ ہو
جہاں پر اہل ِ عِلم و فن کی سب تعظیم کرتے ہوں
جہاں پر محترم ہَستی کی سب تکریم کرتے ہوں
جہاں ہَر فَرد کے لب پر مُحبّت کا ترانہ ہو
جہاں پر زندگی کا ایک رَقص ِ والہانہ ہو

سو ‘ اپنے آپ سے آگے نِکلتے ہیں
چلو آؤ کِہ ہم اُس پار چلتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرویز ساحِر
( ایبٹ آباد ‘ پاک ستان )

 

 

بیوی کا جوابِ شکوہ


بیوی کا جوابِ شکوہ

تیری بیوی بھی صنم تجھ پہ نظر رکھتی ہے
چاہے میکے ہی میں ہو تیری خبر رکھتی ہے
اُس کی سینڈل بھی میاں اتنا اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
شعر تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک ترا
دل ‘ جگر چیر گیا نالہء بیباک ترا
آئی آواز ٹھہر تیرا پتا کرتی ہوں
تُو ہے اَپ سیٹ میں ابھی تیری دوا کرتی ہوں
میں تجھے پہلے بھی اکثر یہ کہا کرتی ہوں
ارے کمبخت! بہت تیری حیا کرتی ہوں
اور تُو ہے کہ بڑی نظمیں ہے پڑھتا پھرتا
اپنے یارو میں بڑا اب ہے اکڑتا پھرتا
تو یہ کہتا ہے کوئی منہ ہے نہ متّھا تیرا
میں دکھاتی ہوں ابھی تجھ کو بھی نقشہ تیرا
نہ کوئی قوم ہے تیری نہ ہے شجرہ تیرا
تو بھی گنجا ہے ارے دوست بھی گنجا تیرا
بھائی تیرے ہیں سبھی مجھ کو تو غُنڈے لگتے
یہ ترے کان کڑاہی کے ہیں کُنڈے لگتے
اپنی شادی پہ عجب رسم چلائی کس نے ؟
نہ کوئی بس نہ کوئی کار کرائی کس نے ؟
آٹو رکشے ہی پہ بارات بُلائی کس نے ؟
منہ دکھائی کی رقم میری چرائی کس نے ؟
کچھ تو اب بول ارے! نظمیں سنانے والے
دھوکے سے میرا حق ِمہر چھڑانے والے
صاف کہہ دے مجھے کس کس پہ ہے اب کے مرتا؟
رات کے پچھلے پہر کس کو ہے کالیں کرتا ؟
کس کے نمبر پہ ہے سو سو کا تو بیلنس بھرتا ؟
چل بتا دے مجھے‘ اب کاہے کو تو ہے ڈرتا
ورنہ ابّے کو ابھی اپنے بُلاتی میں ہوں
آج جوتے سے مزا تجھ کو چکھاتی میں ہوں
سیلری اپنی فقط ماں کو تھمائی تو نے
آج تک مجھ کو کبھی سیر کرائی تو نے؟
کوئی ساڑھی‘ کوئی پشواز دلائی تو نے؟
ایک بھی رسم ِ وفا مجھ سے نبھائی تو نے؟
لطف مرنے میں ہے باقی نہ مزا جینے میں
کتنے ارمان تڑپتے ہیں مرے سینے میں
بھول ابّا سے ہوئی اور سزا مجھ کو ملی
ماں ابھی اب جان گئی کیسی بلا مجھ کو ملی
میں نے چاہی تھی وفا اور جفا مجھ کو ملی
میری تقدیر ہی دراصل خفا مجھ کو ملی
ابّا بھی مانتے ہیں ان سے ہوا جرم ِ عظیم
آغا طالش کو سمجھ بیٹھے اداکار ندیم
ماں نے تھے جتنے دیئے بیچ کے کھائے زیور
تیرے ماتھے پہ سدا رہتے ہیں پھر بھی تیور
جس گھڑی مجھ سے جھگڑتے ہیں یہ میرے دیور
تیری بہنیں بھی نہیں کرتی ہیں میری فیور
تین مرلے کے مکاں میں نہیں رہ سکتی میں
ساس کے ظلم و ستم اب نہیں سہہ سکتی میں
میرے میکے سے جو مہمان کوئی آتا ہے
رنگ چہرے کا اسی وقت بدل جاتا ہے
سامنے آنے سے اّبا کے تُو کتراتا ہے
کتنا سادہ ہے کہتا ہے کہ شرماتا ہے
تو ہوا جس کا مخالف وہ تری ساس نہیں؟
میری عزت کا ذرا بھی تجھے احساس نہیں
ہڈی پسلی میں تری توڑ کے گھر جاؤں گی
ارے گنجے! ترا سر پھوڑ کے گھر جاؤں گی
سَرّیا گردن کا تری موڑ کے گھر جاؤں گی
سارے بچوں کو یہیں چھوڑ کے گھر جاؤں گی
یاد رکھنا ! میں کسی سے بھی نہیں ڈرتی ہوں
فقط آخری بار خبردار تجھے کرتی ہوں