فکری طالبان


فکری طالبان

از حفیظ درویش

طالبان فقط چند افراد کے جتھے کا نام نہیں ہےیہ ایک سوچ کا نام ہے، سوچ کے ایک خاص دائرے میں رہنے کا نام ہے۔

افراد، حالات اور واقعات کو ایک مخصوص زاویے اورمنفرد ذہنیت سے دیکھنے کا نام ہے۔ طالبان جیسا ہونے کےلیے یہ ہرگز ضروری نہیں کہ انسان کی لمبی اور بدوضع سی داڑھی ہو۔اس نے شلوار گھنٹوں تک بلند کرکے باندھی ہو اوروہ ایک کریہہ الشکل بدبودار انسان ہو۔وہ خطرنا ک ہتھیاورں سے یوں لدا ہوجیسے گدھے پر سامان لداہواہو۔

طالبانی ذہنیت کے لوگ آپ کو پینٹ شرٹ میں ملبوس بھی مل سکتے ہیں۔ ان ولایتی طالبان نے مہنگی ٹائی باندھی ہوگی ،ان کے ہاتھ میں مغربی ممالک سے درآمد مہنگے موبائل اور لیپ ٹاپس ہوں گے۔ انہوں نے اپنی سہولت کےلیے ہر طرح کی الیکٹرونکس اشیاء سے گھر بھر رکھا ہوگا۔ ٹی وی،ڈش ،کیبل، سی ڈی پلئیرز اور کمپیوٹرز تو عام مشاہدے کی چیریں ہیں جن سے ان کے کمرے پٹے پڑے ہوں گے۔

ذہنی طالبان کے بدنوں سے اٹھنے والے پرفیوم کی مہک اور ان کے جسم پر سجا تھری پیس سوٹ “میڈ ان کافرستان” کی چغلی کھا رہا ہوگا۔ڈیٹس کے لیے یہ کفار کے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس میں اپنی محبوبہ کا ہاتھ تھام کر بیٹھے ہوں گے۔یہ ولائتی طالبان اپنی محبوبہ کےلیے تحفہ کسی غیر ملکی سپر سٹور سے خرید کر لائے ہوں گے۔یہ اُس کو غیر ملکی آئس کریم کھلا کر اسکا بدن کھانے کے لیے رال ٹپکا رہے ہوں گے۔یہ اس کو مغربی ممالک میں ہنی مون گزارنے کا جھانسہ دے رہے ہوں گے۔ان میں سے چند ایک تو اتنے بے حیا ہوں گے کہ تمام عمر کےلیے کسی مغرب ملک میں جابسنےکا سپنااپنی محبوبہ کے آنچل سے ٹانک رہے ہوں گے۔

یہ طالبا ن ضروری نہیں کہ پہاڑوں پر چھپے ہوں۔ یہ لوگ آفس میں آپ کی ساتھ والی سیٹ پر براجمان ہوسکتے ہیں، آپ کے وہ کلاس فیلو ہوسکتے ہیں جو اپنی کسی کلاس فیلو کے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوبے ہوں گےلیکن اپنی بہن کےلیے یکسراسلامی طرز زندگی کے خواہ ہوں گے۔یہ راہ چلتے یا ویگنوں ، بسوں اور رکشوں میں تعصب اور تنگ نظری کا زہر اگلتے ہوئے آپ کو نظر آسکتے ہیں۔ یہ کسی غیر ملکی این جی او کی تقریب میں بے تحاشا کھانا کھانے کے بعد ڈکارتے ہوئے شریعت کے فوائد بیان کرتے مل جائیں گے۔

ایک دہریے کی فیس بک جیسی ایجاد کو استعما ل کرنا یہ اپنا سمجھیں گے۔یہ فیس بکی طالبان انٹرنیٹ پر پورن پیج(Porn Page) کو کھول کر غیر محرم خواتین کی برہنہ تصویریں دیکھنے میں مگن ہوں گے اور اپنی جنسی ہوس کی تسکین کے لئے آنکھیں سینکتے عجیب حیوانی کیفیت کا شکار ہوں گے۔یہ یوٹیوب کو پراکسی لگا کردیکھیں گےلیکن اگر حکومت اس کو کھولنے کا فیصلہ کرلے تو یہ ڈنڈے لے کر جلوس میں سب سے آگے گلے پھاڑتے ہوئے نظر آئیں گے۔یہ خواتین کو پردہ کرنے کی نصیحت پر مبنی پوسٹ شئیر کرتے ہوئے ملیں گے۔ یہ اپنی وال (wall)پر ایک عورت کو جانوروں کی طرح ایک موٹے کمبل میں لپٹا دکھا کر اس کے نیچے سبحان اللہ لکھ کر شئیر کریں گے، اور پھر بڑے دردمندانہ لہجے میں اپیل کریں گے مسلم عورت کو اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کےلیے پردہ کرنا چاہیے کیونکہ یہی اس کی اصل پہچان ہے۔ پھر یہ فیس بکی مجاہد ریپر میں لپٹی ٹافی کی مثال دیں گے کہ کس طرح اس کو لوگ پسند کرتے ہیں اور کیسے بغیر ریپر کی ٹافی کسی کام نہیں ہوتی۔ یہ عورت کو کھانے کی چیز سے بڑھ کر کچھ نہیں سمجھتے ۔

یہ فکری اور ذہنی طالبان ہروقت نفاذ شریعت کا مطالبہ کرتے نظر آئیں گے۔عورت کار یپ ہوجائے تو یہ کہیں گے کہ عورت گھر سے ہی نہ نکلے،نہ وہ باہر آئے گی اور نہ زیادتی کا شکار ہوگی۔ریپ کی صورت میں ڈین اے کی گواہی کو نہیں مانیں گے لیکن اگر خود بیمار پڑجائیں تو ہرقسم کےجدیدٹیسٹ اوراسکے نتائج پر سرخم تسلیم کردیں گے۔اپنے علاج واسطےجدید طبی سہولیات سے فیضاب ہونا اپنا پیدائشی حق سمجھیں گےاورساتھ ساتھ اسلامی اور مدنی طریقہ علاج کی فیوض وبرکات بیان کرتے نہیں تھکیں گے ،لیکن مجال ہے یہ اسلامی طب کے کسی ایک علاج کو خود پر استعما ل کرلیں۔

ولائتی طالبان ہر عقلی اور منطقی بات کے دشمن ہوں گے۔یہ بظاہر پڑھے لکھے ہوں گے اور چند ایک تو اپنے سبجیکٹ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہوں گے لیکن ان کی ڈگری اور مولوی فضل اللہ کے مدرسے کی ڈگری میں کوئی خاص فرق نہیں ہوگا، سوائے اس کے وہ ڈگری خیراتی ٹکڑوں پر پل کر ،ایک انتہائی پرتشدد ماحول اور بعض اوقات جنسی زیادتی کے بعد ملتی ہے۔ کچھ بدیسی طالبان نےڈگریاں حاصل کرنے کےلیے مغربی ملکوں میں جاکر نہ صرف وہاں کےباشندوں کے ٹیکس کا پیسہ ضائع کیا ہوگا بلکہ ان کا قیمتی وقت بھی برباد کیا ہوگا۔ بارز میں جام لنڈھا کرغیر مسلم دوشیزاوں کے پہلووں کی گرمی سے محظوظ ہوئے ہونگےلیکن ارض پاک پر قدم رکھتے ہی ان لوگوں نے اپنے محسنوں کو حرامی اور مادر پدر آزاد کہہ کر گالیاں دی ہونگی۔

ملالہ ان کو سی آئی اے کی ایجنٹ نظر آئے گی۔ یہ اس کو اتنی غلیظ گالیاں بکیں گے کہ آپ کو متلی ہونےلگی۔ یہ اس معصوم اور کم سن لڑکی کو انگریزوں کی رکھیل تک کہنے سے باز نہیں آئیں گے۔ ایسی تمام باتیں یہ ڈھکے چھپے اور معنی خیز انداز میں کریں گے۔ عافیہ صدیقی کے نام پر ان کی آنکھیں خون آلود اور اشکبار ہوجائیں گی۔ یہ رندھے ہوئے لہجےمیں اس پر ہونے والے مظالم کی داستان سنائیں گےاسے بے قصور بتائیں گےاوراس کی پاکدامنی اور معصومیت کی قسمیں کھائیں گے۔ اس کو قوم کی بیٹی اور ملالہ کو قوم کےلیے بدنامی کا ٹیکہ قرار دیں گے۔اگر کوئی بد قسمتی سے ان کے سامنے ملالہ کا تذکرہ کر دے تو یوں منہ بنائیں گے جیسے ان کے منہ میں فنائل کی گولی رکھ دی گئی ہو ۔

اپنے ملک کے بازاروں اور چوراہوں پر یہاں کے باشندوں کے چیتھڑے ہوتے ہوئےبدن ان پر رتی بھر اثر نہیں کریں گے۔ لیکن شام ، مصر، عراق، انڈیا اور برما کے مسلمانوں میں سے دو چار مارے جائیں تویہ لوگ زاروقطار رونے اور پچھاڑیں کھانے لگیں گے۔ان کا نالہ و شیون اس وقت دیکھنے والا ہوتا ہے جب مصر کا تذکرہ آتا ہے۔ ان کے گلے رندھ جائیں گے اور فرط جذبات سے ان کی آواز دب جائے گی ،ان کے مذہبی رہنما تقریر کرتے ہوئے رو پڑیں گے مگر۔۔۔یہ لوگ اپنےملک میں مرنے والے شیعوں ،عیسائیوں اور ہجرت کرتے ہندووں کے تذکرے پر آپ کو خاموش ملیں گے۔ لیکن جیسے ہی ان کو پتہ چلے گا کہ دو چار کشمیری مارے گئے ہیں تو یہ گلیوں کا رخ کرلیں گے۔

یہ اس دور کےبدترین منافق ہیں اور انسانیت کے بدن پر رستے ناسور ہیں۔ پہاڑوں پر چھپے طالبان پر ریاست قابو پالے گی لیکن ان طالبان کو ختم کرنا ناممکن ہے۔ یہ ذہنی اور فکری طالبان ہتھیار بند طالبان سے ہلاکت اور جہالت میں کسی طرح کم نہیں۔ان کی اُگلی ہوئی جہالت سارے ماحو ل کو غلاظت سے بھر رہی ہے۔ ہم بدترین دور میں ان بدترین لوگوں کے ساتھ زندہ ہیں۔

یہ بیمار اور بے کار ذہنیت کے مالک لوگ ہیں۔ یہ تنگ نظر ، جاہل اور اجڈ ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ ہم صحرائی بدووں کی سی زندگی گزاریں۔یہ اپنی جہالت کو شرف کہتے ہیں اور انسانیت سے محبت کرنے والوں کے عقیدےکی تضحیک کرتے ہیں۔ان کےلیے اپنے عقیدے کے بعد دنیا کی ہر چیز بکواس ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اپنے عقیدے کی گھٹن سے یہ لوگ نہ خود سانس لے پاتے ہیں اور نہ کسی کو لینے دیتے ہیں۔