Zarb-e-Riyal


دوسروں کی لگی آگ میں الجھنے سے بہتر ہے کہ اپنے آپ کو بچاؤ۔ پاکستان میں مذہبی شدت پسندد‘ مذہبی منافرت‘عدم برداشت‘ دہشت گردی کا تحائف بھی نہ چاہتے ہوئے ہمیں سعودی عرب نے دئیے۔ سعودی عرب نے لبیک کہا ہے۔ ارے بھیا !بناؤ مزید تعلقات کوئی تمہیں نہیں روکتا ہے، لیکن اپنی عزت بھی بناؤ‘ کرائے کے ٹٹو جیسی تمہاری حالت ہے‘ سعودی ریال کے بدلے‘ اپنا سب کچھ دینے کو تیا ر ہو جاتے ہو‘ وحشہ ہوتی ہے‘نا اس کے بھی کوئی معیار ہوتا ہے‘ ہماری حالت وحشہ سے بھی گئی گزری ہے۔ ہمیں بس ڈالر اور ریا ل ملتے رہیں‘ جو من میں آٗئے‘ لوٹتے رہیں عربی ۔ ارے میاں کیا فرق پڑتا ہے‘ اور بھی لوٹ ہی رہے ہیں ایک سعودی عرب نے لوٹ لیا تو کیا فر ق پڑ جائے گا‘ پہلے ڈالر پر بکتے تھے‘ اب ریال پر بکیں گے۔ ویسے بھی یہ ملک سب کی آماجگاہ بن چکا ہے‘ ریا ل دو‘ اور جو من چاہے ‘لے جاؤ‘۔
ٰ پاکستانی میڈیا پر ایک ہی نعرہ ہو گا’’ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے‘‘ اس مسئلے کا سیاسی حل نکالنا چاہئے۔ پاکستان آج بھی تیس سال قبل پرائی آگ میں الجھا تھا‘ ابھی تک ایسا اس آگ میں الجھا ہے کہ وطنِ عزیز کا گوشہ گشہ جھلس رہا ہے۔ خدارا اب تو ہوش کے ناخن لو۔ کیوں دوبارہ نہ ختم ہونے والی جنگ کا حصہ بننے جا رہے ہو‘۔ حا لیہ یمن بحران میں پاکستان کو بجائے بحران کا حصہ بننے کے مصالحتی کردار ادا کرنا چاہیے

Minorities in Pakistan


ہمیں تو ہماری نصابی کتابوں نے بہت پہلے ہی مار ڈالا۔ کتنے بچے جانتے ہیں کہ پاکستان بنانے والے محمد علی جناح شیعہ خوجہ تھے۔ کس اسکول میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کا پہلا اسپیکر اور پہلا وزیرِ قانون و انصاف ایک نچلی ذات کا بنگالی ہندو جوگندر ناتھ منڈل تھا۔ تین سال تک لیاقت کابینہ میں شامل رہا اور پھر دل برداشتہ ہو کر پاکستان سے ہی چلا گیا۔
کتنے بچوں کو آج بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کا پہلا وزیرِ خارجہ ایک احمدی سر ظفر اللہ خان تھا جس نے سات برس تک قرار دادِ مقاصد کے معمار سنی العقیدہ نوابزادہ لیاقت علی خان سے محمد علی بوگرا تک تین حکومتوں میں پاکستانی خارجہ پالیسی کو پائلٹ کیا اور پھر عالمی عدالتِ انصاف کا پہلا پاکستانی جج بن گیا۔
کیا ہماری نصابی کتابوں میں جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلئیس کا ذکر ہے جو ایک دیسی کرسچن تھا اور آٹھ برس تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کا چیف جسٹس رہا۔ اور اس نے کیسے کیسے اہم فیصلے کیے؟ اور وہ کس قدر درویش طبیعت تھا جس نے زندگی لاہور کے فلیٹیز ہوٹل کے ایک کمرے میں گذار دی۔
کیا کسی آٹھ دس سال کے بچے نے اس ہزارہ جنرل محمد موسیٰ کا نام سنا ہے جس نے سن پینسٹھ کی جنگ میں پاکستانی بری فوج کی کمان کی؟ اور اسی جنگ میں ایک کرسچن فلائٹ لیفٹننٹ سیسل چوہدری کو بھارتی فضائیہ کو چنے چبوانے کے اعتراف میں ستارہِ جرات ملا۔ اور کتنی عزت تھی ہم بچوں کے دلوں میں فاتحِ چونڈہ میجر جنرل عبدالعلی ملک اور فاتحِ چھمب جوڑیاں میجر جنرل افتخار جنجوعہ شہید کی۔ معاشرتی علوم کے پینسٹھ کی جنگ کے باب میں ان دونوں جنرلوں کی چکنے کاغذ پر بلیک اینڈ وائٹ تصاویر ہوتی تھیں جن میں ایوب خان دونوں کے سینے پر ہلالِ جرات ٹانک رہے ہیں۔ جب ایک روز پتہ چلا کہ یہ تو احمدی ہیں تو فوراً اسکولی نصاب اور ہم سب کے دلوں سے اتر گئے۔ پھر اس کے بعد باقی مشکوک شخصیات کا بھی اسکول کی کتابوں میں داخلہ مرحلہ وار بند ہوتا چلا گیا اور آج الحمداللہ تعلیمی نصاب ہر طرح کی تاریخی آلائشوں سے پاک ہے۔

(وسعت اللہ خان، ۲۳ ستمبر ۲۰۱۳، روزنامہ ایکسپریس)