نوراں کنجری


It depicts hypocrisy of our so called society,

Shehryar Khawar

دسمبر کے اوائل کی بات ہے جب محکمہ اوقاف نے زبردستی میری تعیناتی شیخو پورےکے امیر محلے کی

Heera Mandi, LahorePhotographer: Parthiv Shah Heera Mandi, Lahore Photographer: Parthiv Shah

جامعہ مسجد سے ہیرا منڈی لاہور کی ایک پرانی مسجد میں کر دی. وجہ یہ تھی کے  میں نے قریبی علاقے کے ایک کونسلر کی مسجد کے لاوڈ سپیکر پے تعریف کرنے سے انکار کر دیا تھا. شومئی قسمت کے وہ کونسلر محکمہ اوقاف کے ایک بڑے افسرکا بھتیجا تھا. نتیجتاً میں لاہور شہر کے بدنام ترین علاقے میں تعینات ہو چکا تھا. بیشک کہنے کو میں مسجد کا امام جا رہا تھا مگر علاقے کا بدنام ہونا اپنی جگہ. جو سنتا تھا ہنستا تھا یا پھر اظھار افسوس کرتا تھا

محکمے کے ایک کلرک نے تو حد ہی کر دی. تنخواہ کا ایک معاملہ حل کرانے اس کے پاس گیا تو میری پوسٹنگ کا سن کے ایک آنکھ دبا کر بولا

.قبلہ مولوی صاحب،…

View original post 4,599 more words

شدت پسندی اور پاکستان


شدت پسندی اور پاکستان
سر! ’’یہ شیعہ ہیں!‘‘۸ سالہ بچے نے اپنے کلا س فیلو کی جا نب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔مرے مسجد کے قاری صاحب کہتے ہیں کہ‘ شیعہ کافر ہوتے ہیں ‘ وہ ہمارے دین کو نہیں مانتے ہیں۔ انہوں دین میں بہت سی اختراعات بھی کر دی ہیں‘ اور تو اور یہ کافر نمازیں بھی پوری نہیں پڑھتے ‘انہوں کلمہ بھی اپنا ایجا د کیا ہو ا ہے‘ مہمارے قاری صا حب کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ کھیلنے سے ایمان خراب ہو جاتا ہے‘ مزید یہ کہ اگر میں ان کے ساتھ کھیلتا رہا تو میرا ایمان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے‘ اس لئے سر! میں اس کے ساتھ نہیں بیٹھتا ہوں اور نہ ہی میں اس کے ساتھ کھیلتا ہوں‘ اب آپ ہی بتائیں کیا میں اپنے اسلام کو خطرے میں ڈال دوں؟ کیا میں کافر بن جاؤں؟
۸ سالہ بچے کی باتیں سن کر میں ہکا بکا رہ گیا ہے۔یا خدایا! یہ حا ل ہے ہمارے علماء کرام کا کیسے بچوں کی اذہان کو پراگندہ کرکت فرقہ واریت کی مسموم تعلیم دے رہے ہیں؟ ہمارے بچے کل کا روشن مستقبل ہیں‘ انہی بچوں نے آگ چل کر اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے‘ اور کچے عمر میں جس طرح ان کی اذہان سازی کی جا رہی ہے‘ آنے والی نسلیں تو چلتی پھرتی فرقہ واریت کی فیکٹریز ہوں گی۔ پھر ہمیں کسی بیرونی دشمن کی نہیں اپنے ہی ہاتھوں اپنا ہی نشیمن تبا ہ کر نے مسجد کا مولوی دیر نہیں لگائے گا۔
مذہب کے ٹھیکے دار اب اسلام کے محافظ بنیں گے‘ارے تم اسلا م کی حفاظت کرو گے‘ اب تم جیسا بندا اسلا م کی حفاظت کرے گا جس کو خود نہیں پتہ کہ اس کے ساتھ کل کا ہو گا؟ کیا ایک پرائمری پاس بندہ‘ جس نے سوائے چند قرآن پاک کی سورتیں رٹی ہوئی ہیں‘ اور چند ایک مسائل کا حل جانتا ہے اور گاؤں کے لوگوں ‘ جن کو اس بات کا ڈر رہتا ہے کہ شاید مولوی صاحب کی نگاہوں میں وہ کہیں گستا خ نہ قرار پائے اور دائرہ ایمان سے خا رج ہو نے کے ڈر سے بغیر کچھ سوچھے ‘سمجھے من و عن‘ مولوی صاحب کی باتو ں کو تسلیم کر لتا ہے۔یوں مولوی صا حب کی روزی روٹی بھی چلتی رہتی ہے۔
شدت پسندی‘ہماری سوچ میں ہے‘ سو ہم چاہے لاکھ کوششیں کر لیں کہ دہشت گردی کو ختم کریں] مگر جب تک ہم شدت پسندی جیسے ناسور چھرکارا نہیْن پاتے ہیں‘تب تک تمام کوشیشیں بیکار جائیں گی‘ہماری ریاست نے ۸۰ کی دہائی میں شدت پسندی کی فصل بو ئی تھی‘ آج اسی کا تو پھل کا ٹ رہے ہیں۔؟اس دور میں جس طرح ہر جاندار اور بے جان چیز کو مسلما ن کیا گیا تھاآ ج اگر شدت پسند معاشرہ وجود میں آچکا ہے تواب بھگتیں۔
شدت پسندی کی وجوہا ت کا اگر عمیق مطالعہ کیا جا ئے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس کی پرورش اور اس کو پنپنے کے لئے راہ ہموار کرنے میں ہما ری ریا ست اور اسٹیبلشمنٹ کا بھی ہا تھ ہے۔ ہماری ریاست سے نادانستہ طور ایک غلطی سر زد ہوئی جس کا خمیا زہ ہم ابھی تک بھگت رہے ہیں۔ اسلا م خطرے میں ہے کا نعرہ لگا کر سیا سی اور مذ ہبی مقا صد کی تکمیل کی گئی ۔ ہم من حیث القوم ویسے بھی دین کے معاملے بہت جزباتی واقع ہوئے ہیں۔ اسلا م کو سیاست میں داخل کر کے ہماری ریا ست کی اس غلطی کی ہمیں اتنی بھاری سزا برداشت کرنی پڑے گی ۔
ملاں کے ساتھ آپ بحث نہیں کرسکتے ہیں‘ اگر بحث کی بھی تو بس پھر اپنا سر تن سے جدا سمجھیں‘کیونکہ وہ تو اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھتے ہیں‘ اورجب ان سے کوئی جواب بن نہیں پائے گا تو فورا توہینِ رسالت‘اسلام،اسلاف یا پھر کوئی بھی فتوا لگ سکتا ہے‘ لِہذا اگر جان بچانی ہے تو بس چپ ہی بہتر ہے۔

شاباش پاکستانی عدلیہ شاباش،


شاباش پاکستانی عدلیہ شاباش،
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے:
پاکستان دنیا کا پرامن ترین ملک ہے، ہر سُو انصاف کا بول بالا ہے، نواز شریف اور آصف زرداری انتہائی ایماندار، متقی، پرہیزگار اور باکردار شخصیات ہیں، الطاف حسین ایک شریف النفس او
ر حب الوطن لیڈر ہیں، دخترِ ملّت ایان علی دبئی کی ایک مسجد کو چندہ دینے جا رہی تھیں، اسفندیار یار ولی اور فضل الرحمان پاکستان کی خاطر 1965 کی جنگ لڑے تھے، زرداری کے دورِ حکومت میں کوئی کرپشن نہیں ہوئی، نواز شریف نے اسحاق ڈار کے زریعے لندن میں مدارس اور مساجد بنانے کیلئے پیسہ باہر بھیجا، گیلانی نے تسبیح سمجھ کر ہار امانتًا رکھ لیا، راجہ پرویز اشرف ایمان اور حیاء کے پیکر ہیں، رحمان ملک گیارہویں شریف کی محافل کے منتظم اعلٰی ہیں، شہباز شریف تمام ملک کی تمام خواتین کو اپنی بہنیں سمجھتے ہیں، پاکستان دنیا کا امیر اور طاقتور ترین ملک ہے، پاکستان میں دودھ کی نہریں بہتی ہیں، ہر سُو انصاف کا بول بالا ہے، حکمران عوام کی خاطر راتوں کو سو نہیں سکتے، پاکستان میں کوئی بُھوکا نہیں سوتا، ملک کے تمام بچے سکول جاتے ہیں، لوڈ شیڈنگ نام کی کوئی چیز ہی نہیں، ملک میں ڈیم، سکول، جدید ہسپتالوں کی بھرمار ہے، امریکہ اور چائینہ پاکستان سے امداد لیتے ہیں۔۔۔

میرے عزیز ہم وطنوں، بس یا اس سے زیادہ بھی کچھ اور لِکھوں ؟؟؟ مبارک ہو آپ کو ایسا پاکستان ۔۔۔

Zarb-e-Riyal


دوسروں کی لگی آگ میں الجھنے سے بہتر ہے کہ اپنے آپ کو بچاؤ۔ پاکستان میں مذہبی شدت پسندد‘ مذہبی منافرت‘عدم برداشت‘ دہشت گردی کا تحائف بھی نہ چاہتے ہوئے ہمیں سعودی عرب نے دئیے۔ سعودی عرب نے لبیک کہا ہے۔ ارے بھیا !بناؤ مزید تعلقات کوئی تمہیں نہیں روکتا ہے، لیکن اپنی عزت بھی بناؤ‘ کرائے کے ٹٹو جیسی تمہاری حالت ہے‘ سعودی ریال کے بدلے‘ اپنا سب کچھ دینے کو تیا ر ہو جاتے ہو‘ وحشہ ہوتی ہے‘نا اس کے بھی کوئی معیار ہوتا ہے‘ ہماری حالت وحشہ سے بھی گئی گزری ہے۔ ہمیں بس ڈالر اور ریا ل ملتے رہیں‘ جو من میں آٗئے‘ لوٹتے رہیں عربی ۔ ارے میاں کیا فرق پڑتا ہے‘ اور بھی لوٹ ہی رہے ہیں ایک سعودی عرب نے لوٹ لیا تو کیا فر ق پڑ جائے گا‘ پہلے ڈالر پر بکتے تھے‘ اب ریال پر بکیں گے۔ ویسے بھی یہ ملک سب کی آماجگاہ بن چکا ہے‘ ریا ل دو‘ اور جو من چاہے ‘لے جاؤ‘۔
ٰ پاکستانی میڈیا پر ایک ہی نعرہ ہو گا’’ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے‘‘ اس مسئلے کا سیاسی حل نکالنا چاہئے۔ پاکستان آج بھی تیس سال قبل پرائی آگ میں الجھا تھا‘ ابھی تک ایسا اس آگ میں الجھا ہے کہ وطنِ عزیز کا گوشہ گشہ جھلس رہا ہے۔ خدارا اب تو ہوش کے ناخن لو۔ کیوں دوبارہ نہ ختم ہونے والی جنگ کا حصہ بننے جا رہے ہو‘۔ حا لیہ یمن بحران میں پاکستان کو بجائے بحران کا حصہ بننے کے مصالحتی کردار ادا کرنا چاہیے

Minorities in Pakistan


ہمیں تو ہماری نصابی کتابوں نے بہت پہلے ہی مار ڈالا۔ کتنے بچے جانتے ہیں کہ پاکستان بنانے والے محمد علی جناح شیعہ خوجہ تھے۔ کس اسکول میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کا پہلا اسپیکر اور پہلا وزیرِ قانون و انصاف ایک نچلی ذات کا بنگالی ہندو جوگندر ناتھ منڈل تھا۔ تین سال تک لیاقت کابینہ میں شامل رہا اور پھر دل برداشتہ ہو کر پاکستان سے ہی چلا گیا۔
کتنے بچوں کو آج بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کا پہلا وزیرِ خارجہ ایک احمدی سر ظفر اللہ خان تھا جس نے سات برس تک قرار دادِ مقاصد کے معمار سنی العقیدہ نوابزادہ لیاقت علی خان سے محمد علی بوگرا تک تین حکومتوں میں پاکستانی خارجہ پالیسی کو پائلٹ کیا اور پھر عالمی عدالتِ انصاف کا پہلا پاکستانی جج بن گیا۔
کیا ہماری نصابی کتابوں میں جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلئیس کا ذکر ہے جو ایک دیسی کرسچن تھا اور آٹھ برس تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کا چیف جسٹس رہا۔ اور اس نے کیسے کیسے اہم فیصلے کیے؟ اور وہ کس قدر درویش طبیعت تھا جس نے زندگی لاہور کے فلیٹیز ہوٹل کے ایک کمرے میں گذار دی۔
کیا کسی آٹھ دس سال کے بچے نے اس ہزارہ جنرل محمد موسیٰ کا نام سنا ہے جس نے سن پینسٹھ کی جنگ میں پاکستانی بری فوج کی کمان کی؟ اور اسی جنگ میں ایک کرسچن فلائٹ لیفٹننٹ سیسل چوہدری کو بھارتی فضائیہ کو چنے چبوانے کے اعتراف میں ستارہِ جرات ملا۔ اور کتنی عزت تھی ہم بچوں کے دلوں میں فاتحِ چونڈہ میجر جنرل عبدالعلی ملک اور فاتحِ چھمب جوڑیاں میجر جنرل افتخار جنجوعہ شہید کی۔ معاشرتی علوم کے پینسٹھ کی جنگ کے باب میں ان دونوں جنرلوں کی چکنے کاغذ پر بلیک اینڈ وائٹ تصاویر ہوتی تھیں جن میں ایوب خان دونوں کے سینے پر ہلالِ جرات ٹانک رہے ہیں۔ جب ایک روز پتہ چلا کہ یہ تو احمدی ہیں تو فوراً اسکولی نصاب اور ہم سب کے دلوں سے اتر گئے۔ پھر اس کے بعد باقی مشکوک شخصیات کا بھی اسکول کی کتابوں میں داخلہ مرحلہ وار بند ہوتا چلا گیا اور آج الحمداللہ تعلیمی نصاب ہر طرح کی تاریخی آلائشوں سے پاک ہے۔

(وسعت اللہ خان، ۲۳ ستمبر ۲۰۱۳، روزنامہ ایکسپریس)

Why Pakistan Established by جون ایلیا


آج کہا جاتا ہے کہ پاکستان اسلام کے لیے بنا تھا ۔ پاکستان اسلام کے لیے بنا ہوتا تو کم سے کم کمیونسٹ پارٹی مطالبۂ پاکستان کی تائید نہیں کر سکتی تھی ۔ یہاں ایک اور بات بھی قابلِ توجہ ہے اور وہ یہ کہ پاکستان اگر اسلام کے لیے بنا ہوتا تو یہ ایک مذہبی معاملہ ہوتا لہذا مسلم لیگ کی اعلی قیادت مذہبی علماء کو حاصل ہوتی۔ جناح صاحب کی بجائے “قائدِ اعظم” کا خطاب کسی “قبلہ و کعبہ” یا “حضرت مولانا” کو دیا گیا ہوتا۔ مسلم لیگ کی تحریک اپنے مزاج میں کلیسائی سیاست کی تحریک نہیں تھی۔ اس لیے مسلمانوں کی اکثریت نے امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کے مقابلے میں مسٹر محمد علی جناح کی دل و جان سے حمایت کی۔ بات یہ ہے کہ مسلم لیگ خاص طور پر علی گڑھ کے طلبا جنہیں تعلیم کے بعد ملازمتیں درکار تھیں زمین داروں، جاگیرداروں، چھوٹے تاجروں، چھوٹے سرمایہ داروں اور مغربی وضع قطع کے لوگوں کی نمائیندہ ترین تنظیم تھی۔ یہ لوگ نہ مذہبی تھے نہ غیر مذہبی۔ یہ لوگ مولویوں کو ایک خاص تحقیر آمیز انداز میں “ملا” کہتے تھے اور یہ لفظ انہیں علامہ اقبال نے سکھایا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی ایک معاشی اور سماجی تنظیم تھی۔

جون ایلیا کے پہلے مجموعے “شاید” کا دیباچہ صفحہ ۱۹

الله الحق ہے عزت اور ذلت الله کے ہاتھ میں ہے


الله الحق ہے عزت اور ذلت الله کے ہاتھ میں ہے ..

افتخار چودھری پوری قوم کا ہیرو تھا پھر اس نے عمران خان کے خلاف محاذ کھولا آج اس کا نام سنتے ہی لوگ اسے گالیاں دینا شروع کردیتے ہیں .

دو تہائی اکثریت دو سو سیٹیں اور ڈیڑھ کروڑ ووٹ لینے والے” بادشاہ سلامت” نیویارک میں چند ہزار لوگوں کو دیکھ کے بھاگ نکلے …

شوباز کی گردن میں دو ٹن سریا تھا اس کی بیٹی نے بیکری والے کو مارا آج شوباز بھی وی آی پی کلچر کے خلاف بول پڑا ..

بلاول بھٹو اور زرداری ڈاکو اپنے کارکنوں سے معافیاں مانگتے پھر رہے ہیں..

امریکن پٹھو مشرف جس نے عمران خان کو طالبان خان کا لقب دیا آج وہ بھی عمران خان کی تعریفیں کر رہا ہے ..

مولانا فضل الرحمٰن جس نے سسٹم کے خلاف اسٹینڈ لینے والے عمران خان کو نجانے کس کس طریقے سے بدنام کرنے کی کوشش میں اپنا پورا زور لگا دیا – آج اسکا نام لیتے ہی لوگ ‘ڈیزل – ڈیزل ‘ پکارنا شروع کر دیتے ہیں –

طلعت حسین ، جاوید چودھری ، مجیب ار رحمان شامی نامور صحافی تھے پر اب لوگ انہیں لفافہ صحافی کہتے ہیں ..

زیادہ پرانی بات نہیں دجال جیو کا مالک وقت کا فرعون میر شکیل جس کا پورے ملک میں طوطی بولتا تھا آج بیچارہ کسی کو شکل دکھانے کے قابل نہیں رہا .. اور مسٹر ‘ج’ بار بار اپنے چینل پر کیبل آپریٹرز سے منّت سماجت کرتا نظر آتا ہے کہ مہربانی کیجیے اور “Geo” دکھا دیجئے

رانا ثنا اللہ صبح شام عمران خان کے خلاف بکواس کرتا تھا اس کی وزارتیں گیئں ، رانا مشہود نے اس کی جگہ لی وہی کام کئے آج اس کی وزارتیں بھی گیئں ..

ابھی دو دن پہلے کی ہی بات ہے- مولانا طاہر اشرفی شرابی آیا عمران خان پر کیچڑ اچھالنے خود اپنی عزت خاک میں مل گئی

اور آج …
جاوید ہاشمی جو غالباً پاکستان کے سب سے عزت دار سیاست دان تھے پر جب انہوں نے عمران خان کے خلاف محاذ کھولا اور اسکی سٹرگل پر مختلف الزامات لگاے , ٹکے کی عزت نہیں رہی ملتانیوں نے گاڑی پے لوٹا پھینک دیا .. “داغی” کے نام سے پکارا جانے لگا اور بلآخر آج وہ ملتان سے اپنی آبائی نشست تک نہ جیت سکے !!
  بے شک عزت اور ذلت خدا بزرگ و برتر کے ہاتھ میں ہے ــ