Why Pakistan Established by جون ایلیا


آج کہا جاتا ہے کہ پاکستان اسلام کے لیے بنا تھا ۔ پاکستان اسلام کے لیے بنا ہوتا تو کم سے کم کمیونسٹ پارٹی مطالبۂ پاکستان کی تائید نہیں کر سکتی تھی ۔ یہاں ایک اور بات بھی قابلِ توجہ ہے اور وہ یہ کہ پاکستان اگر اسلام کے لیے بنا ہوتا تو یہ ایک مذہبی معاملہ ہوتا لہذا مسلم لیگ کی اعلی قیادت مذہبی علماء کو حاصل ہوتی۔ جناح صاحب کی بجائے “قائدِ اعظم” کا خطاب کسی “قبلہ و کعبہ” یا “حضرت مولانا” کو دیا گیا ہوتا۔ مسلم لیگ کی تحریک اپنے مزاج میں کلیسائی سیاست کی تحریک نہیں تھی۔ اس لیے مسلمانوں کی اکثریت نے امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کے مقابلے میں مسٹر محمد علی جناح کی دل و جان سے حمایت کی۔ بات یہ ہے کہ مسلم لیگ خاص طور پر علی گڑھ کے طلبا جنہیں تعلیم کے بعد ملازمتیں درکار تھیں زمین داروں، جاگیرداروں، چھوٹے تاجروں، چھوٹے سرمایہ داروں اور مغربی وضع قطع کے لوگوں کی نمائیندہ ترین تنظیم تھی۔ یہ لوگ نہ مذہبی تھے نہ غیر مذہبی۔ یہ لوگ مولویوں کو ایک خاص تحقیر آمیز انداز میں “ملا” کہتے تھے اور یہ لفظ انہیں علامہ اقبال نے سکھایا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی ایک معاشی اور سماجی تنظیم تھی۔

جون ایلیا کے پہلے مجموعے “شاید” کا دیباچہ صفحہ ۱۹