شدت پسندی اور پاکستان


شدت پسندی اور پاکستان
سر! ’’یہ شیعہ ہیں!‘‘۸ سالہ بچے نے اپنے کلا س فیلو کی جا نب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔مرے مسجد کے قاری صاحب کہتے ہیں کہ‘ شیعہ کافر ہوتے ہیں ‘ وہ ہمارے دین کو نہیں مانتے ہیں۔ انہوں دین میں بہت سی اختراعات بھی کر دی ہیں‘ اور تو اور یہ کافر نمازیں بھی پوری نہیں پڑھتے ‘انہوں کلمہ بھی اپنا ایجا د کیا ہو ا ہے‘ مہمارے قاری صا حب کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ کھیلنے سے ایمان خراب ہو جاتا ہے‘ مزید یہ کہ اگر میں ان کے ساتھ کھیلتا رہا تو میرا ایمان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے‘ اس لئے سر! میں اس کے ساتھ نہیں بیٹھتا ہوں اور نہ ہی میں اس کے ساتھ کھیلتا ہوں‘ اب آپ ہی بتائیں کیا میں اپنے اسلام کو خطرے میں ڈال دوں؟ کیا میں کافر بن جاؤں؟
۸ سالہ بچے کی باتیں سن کر میں ہکا بکا رہ گیا ہے۔یا خدایا! یہ حا ل ہے ہمارے علماء کرام کا کیسے بچوں کی اذہان کو پراگندہ کرکت فرقہ واریت کی مسموم تعلیم دے رہے ہیں؟ ہمارے بچے کل کا روشن مستقبل ہیں‘ انہی بچوں نے آگ چل کر اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے‘ اور کچے عمر میں جس طرح ان کی اذہان سازی کی جا رہی ہے‘ آنے والی نسلیں تو چلتی پھرتی فرقہ واریت کی فیکٹریز ہوں گی۔ پھر ہمیں کسی بیرونی دشمن کی نہیں اپنے ہی ہاتھوں اپنا ہی نشیمن تبا ہ کر نے مسجد کا مولوی دیر نہیں لگائے گا۔
مذہب کے ٹھیکے دار اب اسلام کے محافظ بنیں گے‘ارے تم اسلا م کی حفاظت کرو گے‘ اب تم جیسا بندا اسلا م کی حفاظت کرے گا جس کو خود نہیں پتہ کہ اس کے ساتھ کل کا ہو گا؟ کیا ایک پرائمری پاس بندہ‘ جس نے سوائے چند قرآن پاک کی سورتیں رٹی ہوئی ہیں‘ اور چند ایک مسائل کا حل جانتا ہے اور گاؤں کے لوگوں ‘ جن کو اس بات کا ڈر رہتا ہے کہ شاید مولوی صاحب کی نگاہوں میں وہ کہیں گستا خ نہ قرار پائے اور دائرہ ایمان سے خا رج ہو نے کے ڈر سے بغیر کچھ سوچھے ‘سمجھے من و عن‘ مولوی صاحب کی باتو ں کو تسلیم کر لتا ہے۔یوں مولوی صا حب کی روزی روٹی بھی چلتی رہتی ہے۔
شدت پسندی‘ہماری سوچ میں ہے‘ سو ہم چاہے لاکھ کوششیں کر لیں کہ دہشت گردی کو ختم کریں] مگر جب تک ہم شدت پسندی جیسے ناسور چھرکارا نہیْن پاتے ہیں‘تب تک تمام کوشیشیں بیکار جائیں گی‘ہماری ریاست نے ۸۰ کی دہائی میں شدت پسندی کی فصل بو ئی تھی‘ آج اسی کا تو پھل کا ٹ رہے ہیں۔؟اس دور میں جس طرح ہر جاندار اور بے جان چیز کو مسلما ن کیا گیا تھاآ ج اگر شدت پسند معاشرہ وجود میں آچکا ہے تواب بھگتیں۔
شدت پسندی کی وجوہا ت کا اگر عمیق مطالعہ کیا جا ئے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس کی پرورش اور اس کو پنپنے کے لئے راہ ہموار کرنے میں ہما ری ریا ست اور اسٹیبلشمنٹ کا بھی ہا تھ ہے۔ ہماری ریاست سے نادانستہ طور ایک غلطی سر زد ہوئی جس کا خمیا زہ ہم ابھی تک بھگت رہے ہیں۔ اسلا م خطرے میں ہے کا نعرہ لگا کر سیا سی اور مذ ہبی مقا صد کی تکمیل کی گئی ۔ ہم من حیث القوم ویسے بھی دین کے معاملے بہت جزباتی واقع ہوئے ہیں۔ اسلا م کو سیاست میں داخل کر کے ہماری ریا ست کی اس غلطی کی ہمیں اتنی بھاری سزا برداشت کرنی پڑے گی ۔
ملاں کے ساتھ آپ بحث نہیں کرسکتے ہیں‘ اگر بحث کی بھی تو بس پھر اپنا سر تن سے جدا سمجھیں‘کیونکہ وہ تو اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھتے ہیں‘ اورجب ان سے کوئی جواب بن نہیں پائے گا تو فورا توہینِ رسالت‘اسلام،اسلاف یا پھر کوئی بھی فتوا لگ سکتا ہے‘ لِہذا اگر جان بچانی ہے تو بس چپ ہی بہتر ہے۔