ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﻮﮐﮧ ﺟﺎﻭﯾﺪﮨﺎﺷﻤﯽ ﮨﺎﺭﮔﯿﺎ۔۔ !!


ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﻮﮐﮧ ﺟﺎﻭﯾﺪﮨﺎﺷﻤﯽ ﮨﺎﺭﮔﯿﺎ۔۔ !!
ﻭﮦ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭﺑﮭﭩﻮ ﻧﮯ 1973 ﻣﯿﮟ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﮐﺎ ﮨﺎﺋﯽ
ﮐﻤﺸﻨﺮﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮐﯽ، ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﻣﺎﻧﮕﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ
ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﭼﻼﻧﺎ ﭼﮭﻮﮌﺩﮮ ﻣﮕﺮ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﻧﮯ ﭘﯿﺶ
ﮐﺶ ﭨﮭﮑﺮﺍﺩﯼ
ﻭﮦ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺮﻝ ﺿﯿﺎﺍﻟﺤﻖ ﮐﻮ ﻟﻠﮑﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ
ﮐﮩﺎﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻗﻮﻣﯽ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﮐﺮﻧﮯ
ﮐﺎ ۔۔۔ﻭﮦ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﺁﺝ ﮨﺎﺭﮔﯿﺎﮨﮯ
ﻭﮦ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﺟﻮﭘﺮﻭﯾﺰ ﻣﺸﺮﻑ ﮐﯽ ﺁﻣﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮈﭦ
ﮔﯿﺎ ﺟﺐ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮍﯼ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ،
ﺑﻐﺎﻭﺕ ﮐﮯ ﺟﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﮐﻮ 22ﺳﺎﻝ ﻗﯿﺪ ﮐﯽ ﺳﺰﺍﺳﻨﺎﺩﯼ ﮔﺌﯽ،
ﮨﺎﺷﻤﯽ ﻧﮯ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮕﯽ
ﻭﮦ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺟﯿﻞ ﺳﮯ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﮐﯽ
ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮩﺎﻧﮯ ﺑﺎﺯﯾﺎﮞ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ، ﺩﮬﺮﺗﯽ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺍﭘﻨﻮﮞ
ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﮍﮔﯿﺎﻣﮕﺮ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﻮﺩﮮ ﺑﺎﺯﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ
ﻭﮦ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﺟﻮ 2008 ﮐﯽ ﮐﺎﺑﯿﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺷﺎﻣﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍﮐﮧ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﺮﻭﯾﺰ ﻣﺸﺮﻑ ﺟﯿﺴﮯ ﺁﻣﺮ ﺳﮯ ﺣﻠﻒ ﻟﯿﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﯽ
ﭘﺎﺭﭨﯽ ﻧﮯ ﺣﻠﻒ ﻟﯿﺎ، ﮨﺎﺷﻤﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﭘﺮﮈﭨﺎﺭﮨﺎ
ﻭﮦ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻋﺮﻭﺝ ﮐﮯ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻢ ﻟﯿﮓ ﻥ ﮐﻮ
ﭼﮭﻮﮌﺩﯾﺎﺍﻭﺭ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﻣﯿﮟ ﺷﻤﻮﻟﯿﺖ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭﮐﺮﻟﯽ
ﻭﮦ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﺟﺐ ﭘﻮﺭﯼ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﻌﻔﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﮯ
ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺳﺘﻌﻔﯽٰ ﻧﮧ ﺩﯾﺌﮯ ﺗﻮﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻋﻼﻥ ﭘﺮ ﮈﭦ ﮔﯿﺎﺍﻭﺭ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ
ﮐﮯ ﻓﻠﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﺳﺘﻌﻔﯽٰ ﺩﮮ ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﭼﻼﺁﯾﺎ
ﻭﮦ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﻋﺮﻭﺝ ﮐﮯ
ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺍ
ﻭﮦ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﺁﺝ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺳﮯ ﮨﺎﺭﮔﯿﺎ ﮨﮯ ، ﺟﻮ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ
ﮐﻮ ﺩﮬﺎﻧﺪﻟﯽ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺟﺎﻭﯾﺪ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ
ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﮐﯽ
ﻭﮦ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﺁﺝ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺳﮯ ﮨﺎﺭﮔﯿﺎﮨﮯ ، ﺟﻮ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﯽ
ﺍﺻﻼﺣﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﮕﺮ
ﮨﺎﺷﻤﯽ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﭙﻠﺰﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﮯ ﻟﻮﭨﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﭘﭧ
ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﮐﯽ
ﻭﮦ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﮐﺮﭘﺸﻦ ﮐﺎ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺛﺎﺑﺖ ﻧﮩﯿﮟ،
ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺭﮔﯿﺎ، ﺟﺲ ﮐﺎﻧﺎﻡ ﻣﻠﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ
ﮐﺮﭘﺸﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﮐﺎﺁﻏﺎﺯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﯿﺎ، ﺟﺐ
ﻧﻮﺍﺯﺷﺮﯾﻒ، ﺁﺻﻒ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﮐﯽ ﺍﻟﻒ ﺑﮯ
ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ، ﻗﻮﻡ ﮐﺎﺑﺰﺭﮒ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﺩﺍﻥ ﺗﻤﺎﺷﮧ ﺑﻨﺎﺩﯾﺎﮔﯿﺎ
ﻭﮦ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﮨﺎﺭﮐﺮﺑﮭﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻣﺮﺭﮨﮯ ﮔﺎ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺎﺭ ﮐﺮﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺛﺎﺑﺖ
ﮐﺮﺩﯾﺎﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﮨﮯ ، ﺟﺲ ﭘﺮ ﺗﻢ ﺩﮬﺎﻧﺪﻟﯽ
ﮐﺎ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﻮ، ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺭﮔﯿﺎﮨﻮﮞ، ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﺍﮔﺮﺗﻢ ﺁﺝ ﺟﯿﺖ ﮔﺌﮯ ﮨﻮﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻞ ﮐﯽ ﮨﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﻭ

Author(Anonymous)

آخری بار مِلو


آخری بار مِلو ایسے کہ جلتے ہُوئے دل
راکھ ہو جائیں ، کوئی اور تقاضہ نہ کریں
چاک ِ وعدہ نہ سِلے، زخم ِ تمنّا نہ کِھلے
سانس ہموار رہے ، شمع کی لَو تک نہ ہلے
باتیں بس اتنی کہ لمحے اُنہیں آکر گِن جائیں
آنکھ اُٹھائے کوئی اُمّید تو آنکھیں چِھن جائیں
اُس ملاقات کا اِس بار کوئی وہم نہیں
جس سے اِک اور ملاقات کی صورت نکلے
اب نہ ہَیجان و جُنوں کا نہ حکایات کا وقت
اب نہ تجدید ِ وفا کا نہ شکایات کا وقت
لُٹ گئی شہر ِ حوادث میں متاع ِ الفاظ
اب جو کہنا ہے تو کیسے کوئی نَوحہ کہیے
آج تک تم سے رگ ِ جاں کا کئ رشتے تھے
کل سے جو ہوگا اُسے کون سا رشتہ کہیے
پھر نہ دہکیں گے کبھی عارض و رُخسار مِلو
ماتمی ہیں دَم ِ رخصت در و دیوار ، ملو
پھر نہ ہم ہوں گے ، نہ اقرار ، نہ انکار ، ملو
آخری بار مِلو

(آخری بار مِلو ــــــــــــ- مصطفیٰ زیدی)

جس دیس سے


جس دیس سے مائوں بہنوں کو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اغیار اٹھاکر لے جائیں
جس دیس سے قاتل غنڈوں کو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشرار چھڑاکر لے جائیں
جس دیس کی کورٹ کچہری میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انصاف ٹکوں پر بکتا ہو
جس دیس کا منشی قاضی بھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجرم سے پوچھکے لکھتا ہو
جس دیس کے چپے چپے پر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پولس کے ناکے ہوتے ہوں
جس دیس کے مندر مسجد میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر روز دھماکے ہوتے ہوں
جس دیس میں جاں کے رکھوالے ۔ ۔ ۔ ۔ خود جانیں لیں معصوموں کی
جس دیس حاکم ظالم ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سسکیاں نہ سنیں مجبوروں کی
جس دیس کے عادل بہرے ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آہیں نہ سنیں معصوموں کی
جس دیس کی گلیوں کوچوں میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر سمت فحاشی پھیلی ہو
جس دیس میں بنت حوا کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چادر داگ سے میلی ہو
جس دیس کے ہر چوراہے پر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دو چار بھکاری پھرتے ہوں
جس دیس میں روز جہازوں سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امدادی تھیلے گرتے ہوں
جس دیس میں غربت مائوں سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے بچے نیلام کراتی ہو
جس دیس کے عہدیداروں سے ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ عہدے نہ سنبھالے جاتے ہوں
جس دیس کے سادہ لوہ انساں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وعدوں پہ ہی ڈھالے جاتے ہوں
اس دیس کے رہنے والوں پر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہتھیار اٹھانے واجب ہیں
اس دیس کے ہر اک لیڈر کو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ سولی پہ چڑھانا واجب ہے

KAAFIR


KAFIR

Mein bhi kafir, tu bhi kafir,

Phoolo’n ki khushboo bhi kafir,

Lafzo’n ka jadoo bhi kafir,

Ye bhi kafir woh bhi kafir,
Faiz bhi kafir, Manto kafir,

Noor Jehan ka gana kafir,

Mcdonald ka khana kafir,
Burger, coffee, coke bhi kafir,

Hansna biddat joke bhi kafir,
Tablay kafir dhol bhi kafir,

Pyar bharay do bol bhi kafir,
Sur bhi kafir taal bhi kafir,

Bhangra, luddi, dhamaal bhi kafir,
Daadra, thumri, bhairween kafir,

Kafi aur khayal bhi kafir,
Waris Shah ki heer bhi kafir,

Chahat ki zanjeer bhi kafir,
Zinda murda peer bhi kafir,

Nazar nayaz ki kheer bhi kafir,
Betay ka basta bhi kafir,

Beti ki gudiya bhi kafir,
Hansna rona kufr ka sauda,

Gham kafir khushiyan bhi kafir,
Jeans bhi, guitar bhi kafir,

Takhno’n sey neechay bandho to,
Apni ye shalwar bhi kafir,

Fun bhi aur fankar bhi kafir,

Jo meri dhamki na chhapai’n
Woh saray akhbaar bhi kafir,

University kay andar bhi kafir,

Darwin ke bandar bhi kafir,
Freud parhanay walay kafir,

Marx kay sab matwalay kafir,
Melay thailay kufr ka dhanda,

Ganay bajay saray phanda,
Mandir mein to buth hota hai,

Masjid ka bhi haal bura hai,
Kuchh masjid kay bahar kafir,

Kuchh masjid kay andar kafir,
Muslim mulk kay aksar kafir,

Kafir kafir mein bhi kafir,

kafir kafir tu bhi kafir….

(by Salman Haider )

 

 

فکری طالبان


فکری طالبان

از حفیظ درویش

طالبان فقط چند افراد کے جتھے کا نام نہیں ہےیہ ایک سوچ کا نام ہے، سوچ کے ایک خاص دائرے میں رہنے کا نام ہے۔

افراد، حالات اور واقعات کو ایک مخصوص زاویے اورمنفرد ذہنیت سے دیکھنے کا نام ہے۔ طالبان جیسا ہونے کےلیے یہ ہرگز ضروری نہیں کہ انسان کی لمبی اور بدوضع سی داڑھی ہو۔اس نے شلوار گھنٹوں تک بلند کرکے باندھی ہو اوروہ ایک کریہہ الشکل بدبودار انسان ہو۔وہ خطرنا ک ہتھیاورں سے یوں لدا ہوجیسے گدھے پر سامان لداہواہو۔

طالبانی ذہنیت کے لوگ آپ کو پینٹ شرٹ میں ملبوس بھی مل سکتے ہیں۔ ان ولایتی طالبان نے مہنگی ٹائی باندھی ہوگی ،ان کے ہاتھ میں مغربی ممالک سے درآمد مہنگے موبائل اور لیپ ٹاپس ہوں گے۔ انہوں نے اپنی سہولت کےلیے ہر طرح کی الیکٹرونکس اشیاء سے گھر بھر رکھا ہوگا۔ ٹی وی،ڈش ،کیبل، سی ڈی پلئیرز اور کمپیوٹرز تو عام مشاہدے کی چیریں ہیں جن سے ان کے کمرے پٹے پڑے ہوں گے۔

ذہنی طالبان کے بدنوں سے اٹھنے والے پرفیوم کی مہک اور ان کے جسم پر سجا تھری پیس سوٹ “میڈ ان کافرستان” کی چغلی کھا رہا ہوگا۔ڈیٹس کے لیے یہ کفار کے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس میں اپنی محبوبہ کا ہاتھ تھام کر بیٹھے ہوں گے۔یہ ولائتی طالبان اپنی محبوبہ کےلیے تحفہ کسی غیر ملکی سپر سٹور سے خرید کر لائے ہوں گے۔یہ اُس کو غیر ملکی آئس کریم کھلا کر اسکا بدن کھانے کے لیے رال ٹپکا رہے ہوں گے۔یہ اس کو مغربی ممالک میں ہنی مون گزارنے کا جھانسہ دے رہے ہوں گے۔ان میں سے چند ایک تو اتنے بے حیا ہوں گے کہ تمام عمر کےلیے کسی مغرب ملک میں جابسنےکا سپنااپنی محبوبہ کے آنچل سے ٹانک رہے ہوں گے۔

یہ طالبا ن ضروری نہیں کہ پہاڑوں پر چھپے ہوں۔ یہ لوگ آفس میں آپ کی ساتھ والی سیٹ پر براجمان ہوسکتے ہیں، آپ کے وہ کلاس فیلو ہوسکتے ہیں جو اپنی کسی کلاس فیلو کے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوبے ہوں گےلیکن اپنی بہن کےلیے یکسراسلامی طرز زندگی کے خواہ ہوں گے۔یہ راہ چلتے یا ویگنوں ، بسوں اور رکشوں میں تعصب اور تنگ نظری کا زہر اگلتے ہوئے آپ کو نظر آسکتے ہیں۔ یہ کسی غیر ملکی این جی او کی تقریب میں بے تحاشا کھانا کھانے کے بعد ڈکارتے ہوئے شریعت کے فوائد بیان کرتے مل جائیں گے۔

ایک دہریے کی فیس بک جیسی ایجاد کو استعما ل کرنا یہ اپنا سمجھیں گے۔یہ فیس بکی طالبان انٹرنیٹ پر پورن پیج(Porn Page) کو کھول کر غیر محرم خواتین کی برہنہ تصویریں دیکھنے میں مگن ہوں گے اور اپنی جنسی ہوس کی تسکین کے لئے آنکھیں سینکتے عجیب حیوانی کیفیت کا شکار ہوں گے۔یہ یوٹیوب کو پراکسی لگا کردیکھیں گےلیکن اگر حکومت اس کو کھولنے کا فیصلہ کرلے تو یہ ڈنڈے لے کر جلوس میں سب سے آگے گلے پھاڑتے ہوئے نظر آئیں گے۔یہ خواتین کو پردہ کرنے کی نصیحت پر مبنی پوسٹ شئیر کرتے ہوئے ملیں گے۔ یہ اپنی وال (wall)پر ایک عورت کو جانوروں کی طرح ایک موٹے کمبل میں لپٹا دکھا کر اس کے نیچے سبحان اللہ لکھ کر شئیر کریں گے، اور پھر بڑے دردمندانہ لہجے میں اپیل کریں گے مسلم عورت کو اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کےلیے پردہ کرنا چاہیے کیونکہ یہی اس کی اصل پہچان ہے۔ پھر یہ فیس بکی مجاہد ریپر میں لپٹی ٹافی کی مثال دیں گے کہ کس طرح اس کو لوگ پسند کرتے ہیں اور کیسے بغیر ریپر کی ٹافی کسی کام نہیں ہوتی۔ یہ عورت کو کھانے کی چیز سے بڑھ کر کچھ نہیں سمجھتے ۔

یہ فکری اور ذہنی طالبان ہروقت نفاذ شریعت کا مطالبہ کرتے نظر آئیں گے۔عورت کار یپ ہوجائے تو یہ کہیں گے کہ عورت گھر سے ہی نہ نکلے،نہ وہ باہر آئے گی اور نہ زیادتی کا شکار ہوگی۔ریپ کی صورت میں ڈین اے کی گواہی کو نہیں مانیں گے لیکن اگر خود بیمار پڑجائیں تو ہرقسم کےجدیدٹیسٹ اوراسکے نتائج پر سرخم تسلیم کردیں گے۔اپنے علاج واسطےجدید طبی سہولیات سے فیضاب ہونا اپنا پیدائشی حق سمجھیں گےاورساتھ ساتھ اسلامی اور مدنی طریقہ علاج کی فیوض وبرکات بیان کرتے نہیں تھکیں گے ،لیکن مجال ہے یہ اسلامی طب کے کسی ایک علاج کو خود پر استعما ل کرلیں۔

ولائتی طالبان ہر عقلی اور منطقی بات کے دشمن ہوں گے۔یہ بظاہر پڑھے لکھے ہوں گے اور چند ایک تو اپنے سبجیکٹ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہوں گے لیکن ان کی ڈگری اور مولوی فضل اللہ کے مدرسے کی ڈگری میں کوئی خاص فرق نہیں ہوگا، سوائے اس کے وہ ڈگری خیراتی ٹکڑوں پر پل کر ،ایک انتہائی پرتشدد ماحول اور بعض اوقات جنسی زیادتی کے بعد ملتی ہے۔ کچھ بدیسی طالبان نےڈگریاں حاصل کرنے کےلیے مغربی ملکوں میں جاکر نہ صرف وہاں کےباشندوں کے ٹیکس کا پیسہ ضائع کیا ہوگا بلکہ ان کا قیمتی وقت بھی برباد کیا ہوگا۔ بارز میں جام لنڈھا کرغیر مسلم دوشیزاوں کے پہلووں کی گرمی سے محظوظ ہوئے ہونگےلیکن ارض پاک پر قدم رکھتے ہی ان لوگوں نے اپنے محسنوں کو حرامی اور مادر پدر آزاد کہہ کر گالیاں دی ہونگی۔

ملالہ ان کو سی آئی اے کی ایجنٹ نظر آئے گی۔ یہ اس کو اتنی غلیظ گالیاں بکیں گے کہ آپ کو متلی ہونےلگی۔ یہ اس معصوم اور کم سن لڑکی کو انگریزوں کی رکھیل تک کہنے سے باز نہیں آئیں گے۔ ایسی تمام باتیں یہ ڈھکے چھپے اور معنی خیز انداز میں کریں گے۔ عافیہ صدیقی کے نام پر ان کی آنکھیں خون آلود اور اشکبار ہوجائیں گی۔ یہ رندھے ہوئے لہجےمیں اس پر ہونے والے مظالم کی داستان سنائیں گےاسے بے قصور بتائیں گےاوراس کی پاکدامنی اور معصومیت کی قسمیں کھائیں گے۔ اس کو قوم کی بیٹی اور ملالہ کو قوم کےلیے بدنامی کا ٹیکہ قرار دیں گے۔اگر کوئی بد قسمتی سے ان کے سامنے ملالہ کا تذکرہ کر دے تو یوں منہ بنائیں گے جیسے ان کے منہ میں فنائل کی گولی رکھ دی گئی ہو ۔

اپنے ملک کے بازاروں اور چوراہوں پر یہاں کے باشندوں کے چیتھڑے ہوتے ہوئےبدن ان پر رتی بھر اثر نہیں کریں گے۔ لیکن شام ، مصر، عراق، انڈیا اور برما کے مسلمانوں میں سے دو چار مارے جائیں تویہ لوگ زاروقطار رونے اور پچھاڑیں کھانے لگیں گے۔ان کا نالہ و شیون اس وقت دیکھنے والا ہوتا ہے جب مصر کا تذکرہ آتا ہے۔ ان کے گلے رندھ جائیں گے اور فرط جذبات سے ان کی آواز دب جائے گی ،ان کے مذہبی رہنما تقریر کرتے ہوئے رو پڑیں گے مگر۔۔۔یہ لوگ اپنےملک میں مرنے والے شیعوں ،عیسائیوں اور ہجرت کرتے ہندووں کے تذکرے پر آپ کو خاموش ملیں گے۔ لیکن جیسے ہی ان کو پتہ چلے گا کہ دو چار کشمیری مارے گئے ہیں تو یہ گلیوں کا رخ کرلیں گے۔

یہ اس دور کےبدترین منافق ہیں اور انسانیت کے بدن پر رستے ناسور ہیں۔ پہاڑوں پر چھپے طالبان پر ریاست قابو پالے گی لیکن ان طالبان کو ختم کرنا ناممکن ہے۔ یہ ذہنی اور فکری طالبان ہتھیار بند طالبان سے ہلاکت اور جہالت میں کسی طرح کم نہیں۔ان کی اُگلی ہوئی جہالت سارے ماحو ل کو غلاظت سے بھر رہی ہے۔ ہم بدترین دور میں ان بدترین لوگوں کے ساتھ زندہ ہیں۔

یہ بیمار اور بے کار ذہنیت کے مالک لوگ ہیں۔ یہ تنگ نظر ، جاہل اور اجڈ ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ ہم صحرائی بدووں کی سی زندگی گزاریں۔یہ اپنی جہالت کو شرف کہتے ہیں اور انسانیت سے محبت کرنے والوں کے عقیدےکی تضحیک کرتے ہیں۔ان کےلیے اپنے عقیدے کے بعد دنیا کی ہر چیز بکواس ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اپنے عقیدے کی گھٹن سے یہ لوگ نہ خود سانس لے پاتے ہیں اور نہ کسی کو لینے دیتے ہیں۔

 

 

منافقت


اگر اپنی بہن کسی کو پسند کرتی ہو اور ملنے جاتی ہو تو اسے جان سے مار دینا چاہئے. کیونکہ وہ بدکردار ہے. اور لڑکا بے غیرت ہے.
جب کسی کی بہن اپنے ساتھ محبت کا کھیل کھیلے تو وہ دنیا کی سب سے اچھی اور پاکباز عورت لگتی ہے.
شادی سے پہلے کسی لڑکی سے محبت تھی. کیونکہ وہ بہت اچھی اور نیک لڑکی تھی.
شادی سے پہلے بیوی کو کوئی پسند کرتا تھا تو بیوی بد کردار.
طوائف بدکردار لیکن اس کے پاس روز جانے والا عزت دار.
کوئی لڑکی کسی لڑکے کی باتوں میں آکر گھر چھوڑ دے تو لڑکا یہ کہہ کر اسے چھوڑ دیتا ہے کہ جب ماں باپ کی نہ ہوئی تو میری کیا ہوگی.
جب مرد اپنی بیوی کی باتوں میں آکر ماں کی بے عزتی کرتا ہے اور اسکو گھر سے نکال دیتا ہے تو وہ اچھا شوہر کہلاتا ہے.
کوئی لڑکی کسی لڑکے سے فون پر باتیں کرتی ہے اور وہ ریکارڈ کر کے دوستوں کو سناتا ہے تو لڑکی بری اور وہ سب عزت دار.
جہیز دو جہیز دو. مگر حق مہر ساڑھے بتیس روپے رکھو.
جہیز لعنت ہے مگر منہ پھاڑ کر لاکھوں کا حق مہر مانگ لو.
کوئی کافر کسی مسلمان عورت پر ظلم کرے تو وہ شیطان.
خود ہزاروں مسلمان لڑکیوں سے فلرٹ کریں زنا کر کے تیزاب سے جلا کر قتل کردیں تو وہ لڑکیاں بدکار..
خود کسی لڑکی کی تصویر پر آیٹم، ظالم، قیامت کے کمنٹس دیں گے. بازار میں نظر آجائے تو بھوکی نظروں سے دیکھیں گے
کل کو وہی کسی اور کی حوس کا نشانہ بن جائے تو ہر جگہ اس آدمی کو کوستے پھریں گے.
ہم تو مسلمان ہیں. اسلام تو زنا کی سزا دونوں کو دیتا ہے پھر کیوں ہمارے اسلامی معاشرے میں سزا ایک کو ملتی ہے اور دوسرا باعزت بری ہوجاتا ھے؟
میں مردوں کے خلاف نہیں ہوں. مجھے ناانصافی اور منافقت سے نفرت ہے.
تم میں سے کوئی اسوقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے کرتا ہے.
دنیا کی ساری دلیلیں جواز، وکالتیں تو ہم اپنی ذات کے لئے رکھتے ہیں. مگر ساری سزائیں دوسروں کے لئے منتخب کرتے ہیں.
ہم ایسے تو نہ تھے. تو پھر اب کیوں ہوگئے؟ مجھے معلوم ہے بہت کم لوگ اس پر مثبت انداز میں سوچیں گے. خیر کوئی تو سوچے گا. کوئی تو منافقت چھوڑے گا. کوئی ایک تو کوشش کرے گا اپنے آپ سے سچ بولنے کی؟
کوئی ایک تو دونوں کو سزا دینے یا انصاف کرنے کا سوچے گا!!

ہم کو جینے دو خدا را


دین، دھرم اسلام تمہارا
ہم کو جینے دو خدا را
ہم نہ خون بہانا جانیں
نہ بندوق چلانا جانیں
اپنی سوچ اور اپنا عقیدہ
زور سے نہ منوانا جانیں
ہم اللہ کے جاہل بندے
تُو اللہ کا راج دولارا
ہم کو جینے دو خدارا
حور کی لذّت تجھے مبارک
دودھ اور شربت تجھے مبارک
ہم دوزخ کی آگ ہی لیں گے
ساری جنت تجھے مبارک
جنت ہم کو نہیں گوارا
ہم کو جینے دو خدارا۔
دین، دھرم اسلام تمہارا
ہم کو جینے دو خدا را

Sar-E-Tour Ho, Sar-E-Hashr Ho, Humein Intezar Qubool Hai


Meri Zindagi To Firaaq Hai, Wo Azal Se Dil Main Makee’n Sahi
Wo Nigaah-E-Shoq Se Door Hain, Rag-E-Jaa’n Se Laakh Qaree’n Sahi

Humein Jaan Deni Hai Aik Din, Wo Kisi Tarha, Wo Kahee’n Sahi
Humein Aap Khinchiye Daar Par, Jo Nahi Koi To Hum Hi Sahi

Sar-E-Tour Ho, Sar-E-Hashr Ho, Humein Intezar Qubool Hai
Wo Kabhi Milein, Wo Kahee’n Milein, Wo Kabhi Sahi, Wo Kahee’n Sahi

Na Ho, Un Pe Jo Mera Bas Nahi K Ye Aashiqi Hai Hawas Nahi

Jo Ho Faisla Wo Sunaaiye, Issay Hashr Par Na Uthaaiye
Jo Kare’n Ge Aap Sitam Waha’n, Wo Abhi Sahi, Wo Yahi’n Sahi

Usey Dekhne Ki Jo Lau Lagi To Naseer Dekh Hi Len Ge Hum
Wo Hazaar Aankh Se Door ho, Wo Hazaar Parda-Nashee’n Sahi

 

!اے عشق کہیں لے چل


اختر شیرانی کی نظم “اے عشق کہیں لے چل” کا شمار اردو کلاسکس میں ہوتا ہے. یہ نظم معنوی خوبیوں سے تو مالا مال ہے ہی لیکن اس میں نغمگی، بے ساختگی اور روانی بھی دیدنی ہے۔اے عشق کہیں لے چل، اس پاپ کی بستی سے
نفرت گہِ عالم سے، لعنت گہِ ہستی سے
ان نفس پرستوں سے، اِس نفس پرستی سے
دُور اور کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

ہم پریم پُجاری ہیں، تُو پریم کنہیّا ہے
تُو پریم کنہیّا ہے، یہ پریم کی نیّا ہے
یہ پریم کی نیّا ہے، تُو اِس کا کھویّا ہے
کچھ فکر نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

بے رحم زمانے کو، اب چھوڑ رہے ہیں ہم
بے درد عزیزوں سے، منہ موڑ رہے ہیں ہم
جو آس کہ تھی وہ بھی، اب توڑ رہے ہیں ہم
بس تاب نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

یہ جبر کدہ آزاد افکار کا دشمن ہے
ارمانوں کا قاتل ہے، امّیدوں کا رہزن ہے
جذبات کا مقتل ہے، جذبات کا مدفن ہے
چل یاں سے کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

آپس میں چھل اور دھوکے، سنسار کی ریتیں ہیں
اس پاپ کی نگری میں، اجڑی ہوئی پریتیں ہیں
یاں نیائے کی ہاریں ہیں، انیائے کی جیتیں ہیں
سکھ چین نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اک مذبحِ جذبات و افکار ہے یہ دنیا
اک مسکنِ اشرار و آزار ہے یہ دنیا
اک مقتلِ احرار و ابرار ہے یہ دنیا
دور اس سے کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

یہ درد بھری دنیا، بستی ہے گناہوں کی
دل چاک اُمیدوں کی، سفّاک نگاہوں کی
ظلموں کی جفاؤں کی، آہوں کی کراہوں کی
ہیں غم سے حزیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

آنکھوں میں سمائی ہے، اک خواب نما دنیا
تاروں کی طرح روشن، مہتاب نما دنیا
جنّت کی طرح رنگیں، شاداب نما دنیا
للہ وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

وہ تیر ہو ساگر کی، رُت چھائی ہو پھاگن کی
پھولوں سے مہکتی ہوِ پُروائی گھنے بَن کی
یا آٹھ پہر جس میں، جھڑ بدلی ہو ساون کی
جی بس میں نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

قدرت ہو حمایت پر، ہمدرد ہو قسمت بھی
سلمٰی بھی ہو پہلو میں، سلمٰی کی محبّت بھی
ہر شے سے فراغت ہو، اور تیری عنایت بھی
اے طفلِ حسیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اے عشق ہمیں لے چل، اک نور کی وادی میں
اک خواب کی دنیا میں، اک طُور کی وادی میں
حوروں کے خیالاتِ مسرور کی وادی میں
تا خلدِ بریں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

سنسار کے اس پار اک اس طرح کی بستی ہو
جو صدیوں سے انساں کی صورت کو ترستی ہو
اور جس کے نظاروں پر تنہائی برستی ہو
یوں ہو تو وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

مغرب کی ہواؤں سے، آواز سی آتی ہے
اور ہم کو سمندر کے، اُس پار بلاتی ہے
شاید کوئی تنہائی کا دیس بتاتی ہے
چل اس کے قریں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اک ایسی فضا جس تک، غم کی نہ رسائی ہو
دنیا کی ہوا جس میں، صدیوں سے نہ آئی ہو
اے عشق جہاں تُو ہو، اور تیری خدائی ہو
اے عشق وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اک ایسی جگہ جس میں، انسان نہ بستے ہوں
یہ مکر و جفا پیشہ، حیوان نہ بستے ہوں
انساں کی قبا میں یہ شیطان نہ بستے ہوں
تو خوف نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

برسات کی متوالی، گھنگھور گھٹاؤں میں
کہسار کے دامن کی، مستانہ ہواؤں میں
یا چاندنی راتوں کی شفّاف فضاؤں میں
اے زہرہ جبیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

ان چاند ستاروں کے، بکھرے ہوئے شہروں میں
ان نور کی کرنوں کی ٹھہری ہوئی نہروں میں
ٹھہری ہوئی نہروں میں، سوئی ہوئی لہروں میں
اے خضرِ حسیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اک ایسی بہشت آگیں وادی میں پہنچ جائیں
جس میں کبھی دنیا کے، غم دل کو نہ تڑپائیں
اور جس کی بہاروں میں جینے کے مزے آئیں
لے چل تُو وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

کہُوں کِس سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟


( وطن ِ پاک میں رُو پذیر ہونے والے کَھٹناور سانحات ‘ خُونِیں واقعات اور
دِگر گُوں حالات کے تناظُر میں کہی گئ طبع زاد نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پرویز ساحِر)۔۔

کہُوں کِس سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

مِرا ہر شہر کوئ قتل گاہِ دہر بنتا جا رہا ہے۔۔۔۔!
جہاں پر آئے دِن مذہَب ‘ سیاست اُور لسانی تفرقوں کے نام پر
معصُوم اِنسانوں کا قتل ِ عام ہوتا آ رہا ہے۔۔۔۔۔!
کہِیں پر بَم دَھماکوں ‘ گولیوں سے زخم خُوردہ بے گُنہ اِنساں
کہِیں پر بوریوں میں سَر بُریدہ اور لا وارث سے لاشے
کہِیں پر حُکم رانوں اُور سیاست باز اَہلِ شَر کی
مَبنی بَر مفادِ باہَمی اِک مصلحت اندیشی ء بے جا
کہِیں مُلّائیت کا دَخل ِ بے ہَنگم
کہِیں حِزب ِ مخالِف کی ہے شور انگیزی ء بے بے جا
کہِیں پر محکمہ داران و وَردی پوش قاتِل۔۔۔۔۔!
کہِیں پر مِیڈیائ ظُلم و دَہشت خیزی ء بے جا
کہِیں پر بے ضمیری کی صحافت کاری ء بے جا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مُجھے معلُوم ہے یہ ہاتھ کِس کے ہیں
مُجھے معلُوم ہے یہ سب کِدھر سے آتے ہیں ‘ کِس اور جاتے ہیں
مُجھے معلُوم ہے اِن قاتِلوں کے کِتنے چہرے ہیں
مگر پِھر سوچتا ہُوں مَیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہُوں کِس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سبھی نا اَہل اور بے حِس
سبھی اِنسانیت دُشمن’ سبھی غدّار
اَے پیارے وطن ! تُجھ کو
خُدا آباد رکّھے
اُور سدا آزاد رکّھے۔۔۔۔۔!
بَہ جُز حرف ِ دُعا
اب پاس باقی کیا رہا ہے۔۔۔۔۔؟
مِرا ہر شہر کوئ قتل گاہِ دہر بنتا جا رہا ہے۔۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( ایبٹ آباد ‘ پاک ستان )