بیوی کا جوابِ شکوہ


بیوی کا جوابِ شکوہ

تیری بیوی بھی صنم تجھ پہ نظر رکھتی ہے
چاہے میکے ہی میں ہو تیری خبر رکھتی ہے
اُس کی سینڈل بھی میاں اتنا اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
شعر تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک ترا
دل ‘ جگر چیر گیا نالہء بیباک ترا
آئی آواز ٹھہر تیرا پتا کرتی ہوں
تُو ہے اَپ سیٹ میں ابھی تیری دوا کرتی ہوں
میں تجھے پہلے بھی اکثر یہ کہا کرتی ہوں
ارے کمبخت! بہت تیری حیا کرتی ہوں
اور تُو ہے کہ بڑی نظمیں ہے پڑھتا پھرتا
اپنے یارو میں بڑا اب ہے اکڑتا پھرتا
تو یہ کہتا ہے کوئی منہ ہے نہ متّھا تیرا
میں دکھاتی ہوں ابھی تجھ کو بھی نقشہ تیرا
نہ کوئی قوم ہے تیری نہ ہے شجرہ تیرا
تو بھی گنجا ہے ارے دوست بھی گنجا تیرا
بھائی تیرے ہیں سبھی مجھ کو تو غُنڈے لگتے
یہ ترے کان کڑاہی کے ہیں کُنڈے لگتے
اپنی شادی پہ عجب رسم چلائی کس نے ؟
نہ کوئی بس نہ کوئی کار کرائی کس نے ؟
آٹو رکشے ہی پہ بارات بُلائی کس نے ؟
منہ دکھائی کی رقم میری چرائی کس نے ؟
کچھ تو اب بول ارے! نظمیں سنانے والے
دھوکے سے میرا حق ِمہر چھڑانے والے
صاف کہہ دے مجھے کس کس پہ ہے اب کے مرتا؟
رات کے پچھلے پہر کس کو ہے کالیں کرتا ؟
کس کے نمبر پہ ہے سو سو کا تو بیلنس بھرتا ؟
چل بتا دے مجھے‘ اب کاہے کو تو ہے ڈرتا
ورنہ ابّے کو ابھی اپنے بُلاتی میں ہوں
آج جوتے سے مزا تجھ کو چکھاتی میں ہوں
سیلری اپنی فقط ماں کو تھمائی تو نے
آج تک مجھ کو کبھی سیر کرائی تو نے؟
کوئی ساڑھی‘ کوئی پشواز دلائی تو نے؟
ایک بھی رسم ِ وفا مجھ سے نبھائی تو نے؟
لطف مرنے میں ہے باقی نہ مزا جینے میں
کتنے ارمان تڑپتے ہیں مرے سینے میں
بھول ابّا سے ہوئی اور سزا مجھ کو ملی
ماں ابھی اب جان گئی کیسی بلا مجھ کو ملی
میں نے چاہی تھی وفا اور جفا مجھ کو ملی
میری تقدیر ہی دراصل خفا مجھ کو ملی
ابّا بھی مانتے ہیں ان سے ہوا جرم ِ عظیم
آغا طالش کو سمجھ بیٹھے اداکار ندیم
ماں نے تھے جتنے دیئے بیچ کے کھائے زیور
تیرے ماتھے پہ سدا رہتے ہیں پھر بھی تیور
جس گھڑی مجھ سے جھگڑتے ہیں یہ میرے دیور
تیری بہنیں بھی نہیں کرتی ہیں میری فیور
تین مرلے کے مکاں میں نہیں رہ سکتی میں
ساس کے ظلم و ستم اب نہیں سہہ سکتی میں
میرے میکے سے جو مہمان کوئی آتا ہے
رنگ چہرے کا اسی وقت بدل جاتا ہے
سامنے آنے سے اّبا کے تُو کتراتا ہے
کتنا سادہ ہے کہتا ہے کہ شرماتا ہے
تو ہوا جس کا مخالف وہ تری ساس نہیں؟
میری عزت کا ذرا بھی تجھے احساس نہیں
ہڈی پسلی میں تری توڑ کے گھر جاؤں گی
ارے گنجے! ترا سر پھوڑ کے گھر جاؤں گی
سَرّیا گردن کا تری موڑ کے گھر جاؤں گی
سارے بچوں کو یہیں چھوڑ کے گھر جاؤں گی
یاد رکھنا ! میں کسی سے بھی نہیں ڈرتی ہوں
فقط آخری بار خبردار تجھے کرتی ہوں